عدن کے بعد سانپ کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ اُس نے غیر قوموں کے لیے ایک الگ مذہب بنا دیا، جس نے اُنہیں یسوع اور اُس کے آباؤ اجداد کے مذہب سے جدا کر دیا، جو ابراہیم تک جاتا ہے۔ یسوع کے الفاظ میں کہیں بھی یہ اشارہ نہیں ملتا کہ غیر قوموں کو اپنا الگ مذہب، اپنے عقائد اور روایات رکھنے چاہئیں، اور سب سے سنگین بات یہ کہ نجات کے لیے اُس کے باپ کے قوانین کی اطاعت کی ضرورت نہیں۔ شیطان نے اپنا مقصد حاصل کر لیا، کیونکہ تقریباً کوئی بھی خدا کے قوانین کی اطاعت نہیں کرتا۔ یہ شاید آپ کی زندگی میں اس المناک کہانی کو پلٹنے کا آخری موقع ہے۔ جو غیر قوم نجات چاہتی ہے اُسے وہی قوانین ماننے ہوں گے جو باپ نے اپنی عزت اور جلال کے لیے منتخب قوم کو دیے۔ باپ اس غیر قوم کے ایمان اور حوصلے کو دیکھتا ہے اور اُسے بیٹے کے پاس معافی اور نجات کے لیے لے جاتا ہے۔ | پردیسی جو خداوند سے جڑتا ہے، تاکہ اُس کی خدمت کرے، یوں اُس کا خادم بن جائے… اور جو میرے عہد کو مضبوطی سے تھامے، میں اُنہیں بھی اپنے مقدس پہاڑ پر لے آؤں گا۔ (اشعیا 56:6-7) | shariatkhuda.org
خدا کے کام میں شریک ہوں۔ اس پیغام کو شیئر کریں!
























